قرآن - 55:55 سورہ الرحمن ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

55
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

Transliteration: (Fabi ayyi aalaaa'i Rabbikumaa tukazzibaan.)

ترجمہ: کنزالایمان - مُتَّكِـٕیْنَ عَلٰى فُرُشٍۭ بَطَآىٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍؕ-وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍ(54)فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(55) || ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے جن کا استر قناویز کا اور دونوں کے میوے اتنے جھکے ہوئے کہ نیچے سے چن لو۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان ۔(جنتی) ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جن کے اندرونی حصے موٹے ریشم کے ہیں اور دونوں جنتوں کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔ توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ || ۔(جنتی) ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جن کے اندرونی حصے موٹے ریشم کے ہیں اور دونوں جنتوں کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔ توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الرحمن آیت 55 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{مُتَّكِـٕیْنَ عَلٰى فُرُشٍ: بچھونوں  پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں  گے۔} یعنی جنتی لوگ بادشاہوں  کی طرح آرام اور راحت سے ایسے بچھونوں  پر ٹیک لگاکر بیٹھے ہوئے ہوں  گے جن کے اندرونی حصے موٹے ریشم کے ہوں  گے ۔( روح البیان، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۵۴، ۹ / ۳۰۷)

             حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’جب ا س بچھونے کے اندرونی حصے کا یہ حال ہے تو ظاہری حصے کا کیا حال ہو گا۔

            اورحضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں  : اللہ تعالیٰ نے ان بچھونوں  کے اندرونی حصے کا حال تو بیان کر دیا لیکن ظاہری حصے کا بیان نہیں  کیا کیونکہ زمین میں  کوئی ایسی چیز ہے ہی نہیں  جس سے ان کے ظاہری حصوں  کا حال پہچانا جا سکے۔ (خازن، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۵۴، ۴ / ۲۱۳)

{وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍ: اور دونوں  جنتوں  کا پھل جھکاہوا ہے۔} یعنی ان دونوں  جنتوں  کا پھل اتنا قریب ہو گا کہ کھڑا، بیٹھا اور لیٹا ہر شخص اسے چن لے گا جبکہ دنیا کے پھلوں  میں  یہ خاصیت نہیں  ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ درخت اتنا قریب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے بندے کھڑے یابیٹھے جیسے چاہیں  گے اس کا پھل چن لیں  گے۔( خازن، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۵۴، ۴ / ۲۱۴)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!ان لذیذ اور باقی رہنے والی نعمتوں  میں  سے تم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟(روح البیان، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۵۵، ۹ / ۳۰۷)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now