قرآن - 55:66 سورہ الرحمن ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

66
فِيهِمَا عَيۡنَانِ نَضَّاخَتَانِ

Transliteration: (Feehimaa 'aynaani nad daakhataan)

ترجمہ: کنزالایمان - فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ(66)فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(67) || ان میں دو چشمے ہیں چھلکتے ہوئے۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان ان میں دو چھلکتے ہوئے چشمے ہیں ۔ توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ || ان میں دو چھلکتے ہوئے چشمے ہیں ۔ توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الرحمن آیت 66 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ: ان میں دو چھلکتے ہوئے چشمے ہیں ۔} یعنی ان دونوں جنتوں میں پانی کے چھلکتے ہوئے دو چشمے ہیں جن کا پانی ٹوٹتا نہیں ۔

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان دونوں جنتوں میں اہلِ جنت پر خیرو برکت کے ساتھ پانی کے دو چھلکتے ہوئے چشمے ہیں۔

            اورحضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان دونوں جنتوں میں اللہ تعالیٰ کے پیاروں پر مشک اور کافور (کی خوشبو) کے ساتھ پانی کے دو چھلکتے ہوئے چشمے ہیں ۔

            اورحضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’اہلِ جنت کے گھروں میں مشک اور عنبر (کی خوشبو) کے ساتھ پانی کے دوچھلکتے ہوئے چشمے ہیں ۔( خازن، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۶۶، ۴ / ۲۱۵)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ! تم میں سے نیک اعمال کرنے والوں کو ایسا عظیم ثواب عطا کر کے اللہ تعالیٰ نے تم پر انعام کیا توتم دونوں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟( تفسیر طبری، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۶۷، ۱۱ / ۶۱۳)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now