قرآن - 55:77 سورہ الرحمن ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

77
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

Transliteration: (Fabi ayyi aalaaa'i Rabbikumaa tukazzibaan.)

ترجمہ: کنزالایمان - مُتَّكِـٕیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍ(76)فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(77) || تکیہ لگائے ہوئے سبز بچھونوں اور منقش خوبصورت چاندنیوں پر۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان ۔ (جنتی) سبزقالینوں اور انتہائی خوبصورت بچھونوں پرتکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ || ۔ (جنتی) سبزقالینوں اور انتہائی خوبصورت بچھونوں پرتکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الرحمن آیت 77 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{مُتَّكِـٕیْنَ: تکیہ لگائے ہوئے ہوں  گے۔} اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرنے والوں  کو جو دو جنتیں  عطا ہوں  گی ان کے جنتی بچھونوں  کا ظاہری حال بیان نہیں  کیا گیا جیساکہ آیت نمبر54میں  گزرا ،کیونکہ ان بچھونوں  کی شان بہت بلند ہے اور ان کا ظاہری حال عقل اور فہم کے اِدراک سے باہر ہے جبکہ دوسری دو جنتوں  میں  اہلِ جنت کو جو بچھونے عطا ہوں  گے ان کا ظاہری حال یہاں  بیان کر دیاگیا کہ وہ سبز اور مُنَقّش ہوں  گے ،اس سے ان بچھونوں  میں  فرق صاف ظاہر ہو رہا ہے۔( روح البیان، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۷۶، ۹ / ۳۱۵، ملخصاً)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ! تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ تم پر کوئی احسان فرمانے والا نہیں ،توتم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( جمل، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۷۷، ۷ / ۳۸۳)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now