قرآن - 30:43 سورہ الروم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

43
فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ ٱلۡقَيِّمِ مِن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ يَوۡمٞ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِۖ يَوۡمَئِذٖ يَصَّدَّعُونَ

Transliteration: (Fa aqim wajhaka lid deenil qaiyimi min qabli any yaatiya Yawmul laa maradda lahoo minal laahi Yawma'iziny yassadda'oon)

ترجمہ: کنزالایمان - فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَىٕذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ(43) || تو اپنا منہ سیدھا کر عبادت کے لئے قبل اس کے کہ وہ دن آئے جسے الله کی طرف سے ٹلنا نہیں اس دن الگ پھٹ جائیں گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو اس دن کے آنے سے پہلے اپنا منہ دینِ مستقیم کیلئے سیدھا کرلو جس دن کو الله کی طرف سے ٹلنا نہیں ہے۔اس دن لوگ الگ الگ ہوجائیں گے۔ || تو اس دن کے آنے سے پہلے اپنا منہ دینِ مستقیم کیلئے سیدھا کرلو جس دن کو الله کی طرف سے ٹلنا نہیں ہے۔اس دن لوگ الگ الگ ہوجائیں گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الروم آیت 43 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ: تو اپنا منہ دین ِمستقیم کیلئے سیدھا کرلو۔} اس آیت میں  خطاب نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہے اور مراد آپ اور آپ کی امت ہے اور معنی یہ ہیں  کہ قیامت کا دن آنے سے پہلے پہلے دینِ اسلام پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں ، دینِ اسلام کو پھیلانے میں  مشغول رہیں  اور کافروں  کے ایمان نہ لانے پر غمزدہ نہ ہوں  اورقیامت کا دن ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ٹلنا نہیں  ہے اوراس دن حساب کے بعد لوگ الگ الگ ہو جائیں  گے کہ جنتی جنت کی طرف اور دوزخی دوزخ کی طرف چلے جائیں  گے۔( مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۴۳، ص۹۱۰، جلالین مع صاوی، الروم، تحت الآیۃ: ۴۳، ۴ / ۱۵۸۵-۱۵۸۶، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now