Transliteration: (Li yajziyal lazeena aamanoo wa 'amilus saalihaati min fadlih; innahoo laa yuhibbul kaafireen)
{لِیَجْزِیَ: تا کہ اللہ جزا عطا فرمائے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ جولوگ اچھا
کام اور نیک عمل کر رہے ہیں وہ اپنے ہی فائدے کے لئے کر رہے
ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے نیک
اعمال کرنے والے مسلمانوں کو جزا عطا فرمائے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ
قیامت کے دن لوگو ں کو اس لئے الگ الگ کر دیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان لوگوں کو صلہ
عطا فرمائے جنہوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال کئے۔بے شک اللہ تعالیٰ کافروں کوپسندنہیں کرتا بلکہ وہ
کافر سے ناراض ہے اور اسے سخت سزا دے گا۔( قرطبی، الروم، تحت الآیۃ: ۴۵، ۱۴ / ۳۲، الجزء الرابع عشر، جلالین، الروم، تحت
الآیۃ: ۴۵، ص۳۴۴، روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۴۵، ۷ / ۴۸، ملتقطاً)
نیک
اعما ل کی جز املنا محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے:
اس
سے معلوم ہوا کہ بندے کو ا س کے نیک اعمال کا صلہ دینا اور نیک اعمال کے بدلے اسے
ثواب اور جزا دینا اللہ تعالیٰ پر لازم
نہیں اور وہ نیک لوگوں کو ان کی نیکیوں کا جو بھی اجر عطا فرمائے گا وہ صرف اس کا
فضل و کرم ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الروم آیت 45 تفسیر