قرآن - 30:55 سورہ الروم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

55
وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُقۡسِمُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ مَا لَبِثُواْ غَيۡرَ سَاعَةٖۚ كَذَٰلِكَ كَانُواْ يُؤۡفَكُونَ

Transliteration: (Wa Yawma taqoomus Saa'atu yuqsimul mujrimoona maa labisoo ghaira saa'ah; kazaalika kaanoo yu'fakoon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ﳔ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍؕ-كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ(55) || اور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرم قسم کھائیں گے کہ نہ رہے تھے مگر ایک گھڑی وہ ایسے ہی اوندھے جاتے تھے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرم قسم کھائیں گے کہ وہ تو صرف ایک گھڑی ہی رہے ہیں ۔ اسی طرح وہ اوندھے جاتے تھے۔ || اور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرم قسم کھائیں گے کہ وہ تو صرف ایک گھڑی ہی رہے ہیں ۔ اسی طرح وہ اوندھے جاتے تھے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الروم آیت 55 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ: اور جس دن قیامت قائم ہوگی۔} ارشاد فرمایا کہ جس دن قیامت قائم ہو گی ا س دن مجرم قسم کھا کر کہیں  گے کہ وہ صرف ایک گھڑی ہی ٹھہرے ہیں  یعنی آخرت کو دیکھ کر مجرم کو دنیا یا قبر میں  رہنے کی مدت بہت تھوڑی معلوم ہوگی ،اس لئے وہ اس مدت کو ایک گھڑی سے تعبیرکریں  گے۔ مزیدفرمایا کہ اسی طرح وہ پھیرے جاتے تھے یعنی ایسے ہی دنیا میں  غلط اور باطل باتوں  پر جمتے اور حق سے پھرتے تھے اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا انکار کرتے تھے جیسا کہ اب قبر یا دنیا میں  ٹھہرنے کی مدت کو قسم کھا کر ایک گھڑی بتارہے ہیں ۔ ان کی اس قسم سے اللہ تعالیٰ انہیں  تمام اہلِ مَحشر کے سامنے رسوا کرے گا اور سب دیکھیں  گے کہ ایسے مجمعِ عام میں  قسم کھا کر ایسا صریح جھوٹ بول رہے ہیں۔(خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۵۵، ۳ / ۴۶۷، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۵۵، ص۹۱۳، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now