Transliteration: (Awalam yaseeroo fil ardi fa-yanzuroo kaifa kaana 'aaqibatul lazeena min qablihim; kaanooo ashadda minhhum quwwatanw wa asaarul arda wa 'amaroohaaa aksara mimmaa 'amaroohaa wa jaaa'athum Rusuluhum bil baiyinaati famaa kaanal laahu liyazli mahum wa laakin kaanooo anfusahum yazlimoon)
{اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ: اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا۔} یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو جھٹلانے والے اور آخرت سے غافل کفار نے زمین میں سفر نہیں کیا تاکہ وہ دیکھ لیتے کہ ان سے پہلے رسولوں کو جھٹلانے والے لوگوں کا انجام کیا ہوا، رسولوں کو جھٹلانے کی وجہ سے انہیں ہلاک کر دیا گیا اور اب ان کے اجڑے ہوئے دیار اور ان کی ہلاکت وبر بادی کے آثار، عبرت کاسامان ہیں ۔ان قوموں کا حال یہ تھا کہ وہ لوگ اہل ِمکہ سے زیادہ طاقتور تھے اور انہوں نے زمین میں ہل چلائے اور زمین کواُس سے زیادہ آباد کیا جتنا اِن اہلِ مکہ نے آباد کیاہے، لیکن جب اُن کے رسول اُن کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے تو وہ اُن پر ایمان نہ لائے،اس کی وجہ سے ان کا انجام یہ ہو ا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہ تھی کہ وہ ان کے حقوق کم کرکے اور انہیں جرم کے بغیر ہلاک کرکے ان پر ظلم کرتا، ہاں رسولوں کی تکذیب کرنے کی وجہ سے اپنے آپ کو عذاب کا مستحق بنا کروہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔(تفسیر طبری، الروم، تحت الآیۃ: ۹، ۱۰ / ۱۷۰، جلالین، الروم، تحت الآیۃ: ۹، ص۳۴۱، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۹، ۳ / ۴۵۹، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الروم آیت 9 تفسیر