Transliteration: (Wa taraknaa 'alaihimaa fil aakhireen)
{وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَ: اور پچھلوں میں ان کی تعریف باقی رکھی۔} ایک احسان یہ فرمایا کہ بعد میں آنے والوں میں ان کے اچھے ذکر کو باقی رکھا۔ یہاں بعد میں آنے والوں سے مراد حضور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت ہے اور اچھے ذکر سے ان کی تعریف و توصیف اور ثناءِ جمیل مراد ہے۔( تفسیرکبیر، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۱۹، ۹ / ۳۵۲)
{سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ: موسیٰ اور ہارون پرسلام ہو۔} ا س آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ قیامت تک مخلوق ان دونوں بزرگوں پر سلام بھیجتی رہے گی اور ان کا ذکرِ خیر کرتی رہے گی۔( روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۲۰، ۷ / ۴۸۰)دوسرا معنی یہ ہے کہ خالق کی طرف سے وہ دونوں ہمیشہ امن و سلامتی میں رہیں گے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 119 تفسیر