Transliteration: (Innaa kazaalika najzil muhsineen)
{اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ: بیشک نیکی کرنے والوں کوہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔} یعنی جس طرح ہم نے فرعون کے مَظالِم سے نجات دے کر ، قِبطیوں کے مقابلے میں ان کی مدد کر کے،حدود و اَحکام کی جامع کتاب عطا فرما کر اور قیامت تک ذکر خیر باقی رکھ کے حضرتِ موسیٰ اور حضرتِ ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جز اعطا فرمائی اسی طرح ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔( صاوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۲۱، ۵ / ۱۷۴۹، ملخصاً)
ا س سے معلوم ہوا کہ نیکی کرنے والوں کو دیگر ثوابوں کے علاوہ دنیا میں ذکر ِخیر اور امن و سلامتی بھی عطا ہوتی ہے۔
{اِنَّهُمَا: بیشک وہ دونوں ۔} اس آیت سے اس بات پر تَنبیہ کرنا مقصود ہے کہ سب سے بڑی فضیلت اور سب سے اعلیٰ شرف کامل ایمان سے حاصل ہوتا ہے۔ (تفسیرکبیر، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۲۲، ۹ / ۳۵۲)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 121 تفسیر