Transliteration: (Atad'oona Ba'lanw wa tazaroona ahsanal khaaliqeen)
{اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ: جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت الیاس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا’’اے لوگو! کیا تمہیں اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں اور تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ معبود کی عبادت کرنے پر ا س کے عذاب سے ڈرتے نہیں ؟کیا تم بعل کی پوجا کرتے ہو اور ا س سے بھلائیاں طلب کرتے ہو جبکہ اس رب تعالیٰ کی عبادت کو ترک کرتے ہوجو بہترین خالق ہے اور وہ تمہارا رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادا کا بھی رب ہے ۔
’’بَعْل‘‘ اُن لوگوں کے بت کا نام تھاجو سونے کا بنا ہوا تھا ،اس کی لمبائی 20 گز تھی اور ا س کے چار منہ تھے، وہ لوگ اس کی بہت تعظیم کرتے تھے، جس مقام میں وہ بت تھا اس جگہ کا نام ’’بک‘‘ تھا اس لئے ا س کا نام بَعلبک مشہور ہوگیا، یہ ملک شام کے شہروں میں سے ایک شہر ہے۔( تفسیرطبری، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۲۴-۱۲۵، ۱۰ / ۵۲۰، ابو سعود، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۲۵، ۴ / ۴۱۹، روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۲۴-۱۲۶، ۷ / ۴۸۱)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 125 تفسیر