قرآن - 37:127 سورہ الصافات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

127
فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُونَ

Transliteration: (Fakazzaboohu fa inna hum lamuhdaroon)

ترجمہ: کنزالایمان - فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ(127)اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ(128) || پھر انہو ں نے اسے جھٹلایا تو وہ ضرور پکڑے آئیں گے۔ مگر اللہ کے چنے ہوئے بندے۔ ترجمہ: کنزالعرفان پھر انہو ں نے اسے جھٹلایا تو وہ ضرور پیش کئے جائیں گے۔ مگر اللہ کے چُنے ہوئے بندے۔ || پھر انہو ں نے اسے جھٹلایا تو وہ ضرور پیش کئے جائیں گے۔ مگر اللہ کے چُنے ہوئے بندے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 127 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَكَذَّبُوْهُ: پھر انہو ں  نے اسے جھٹلایا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قوم نے حضرت الیاس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا تو وہ اپنے جھٹلانے کی وجہ سے قیامت کے دن ضرور ہمارے عذاب میں حاضر کئے جائیں  گے اور ہمیشہ جہنم میں  رہیں  گے البتہ اس قوم میں  سے اللہ تعالیٰ کے وہ بَرگُزیدہ بندے جو حضرت الیاس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لائے انہوں  نے عذاب سے نجات پائی۔( روح البیان،الصافات،تحت الآیۃ:۱۲۷-۱۲۸،۷ / ۴۸۲، خازن،والصافات، تحت الآیۃ: ۱۲۷-۱۲۸، ۴ / ۲۶، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now