Transliteration: (Illaa 'ibaadal laahil mukhlaseen)
{فَكَذَّبُوْهُ: پھر انہو ں نے اسے جھٹلایا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قوم نے حضرت الیاس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا تو وہ اپنے جھٹلانے کی وجہ سے قیامت کے دن ضرور ہمارے عذاب میں حاضر کئے جائیں گے اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے البتہ اس قوم میں سے اللہ تعالیٰ کے وہ بَرگُزیدہ بندے جو حضرت الیاس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لائے انہوں نے عذاب سے نجات پائی۔( روح البیان،الصافات،تحت الآیۃ:۱۲۷-۱۲۸،۷ / ۴۸۲، خازن،والصافات، تحت الآیۃ: ۱۲۷-۱۲۸، ۴ / ۲۶، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 128 تفسیر