قرآن - 37:130 سورہ الصافات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

130
سَلَٰمٌ عَلَىٰٓ إِلۡيَاسِينَ

Transliteration: (Salaamun 'alaaa Ilyaaseen)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ(129)سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ(130)اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ (131) اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ(132) || اور ہم نے پچھلوں میں اس کی ثنا باقی رکھی۔ سلام ہو الیاس پر۔ بے شک ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو۔ بے شک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ہم نے بعد والوں میں اس کی تعریف باقی رکھی۔ الیاس پرسلام ہو۔ بیشک ہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔ بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل ایمان والے بندوں میں سے ہے۔ || اور ہم نے بعد والوں میں اس کی تعریف باقی رکھی۔ الیاس پرسلام ہو۔ بیشک ہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔ بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل ایمان والے بندوں میں سے ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 130 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ: الیاس پرسلام ہو۔} اِل یاسین بھی الیاس کی ایک لغت ہے۔ جیسے سینا اور سِیْنِیْن دونوں  ’’طورِ سینا ‘‘ ہی کے نام ہیں  ،ایسے ہی الیاس اور اِلْ یاسین ایک ہی ذات کے نام ہیں ۔اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت الیاس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر سلام ہو اور دوسرا معنی یہ ہے کہ قیامت تک بندے ان کے حق میں  دعا کرتے اور ان کی تعریف بیان کرتے رہیں  گے ۔( روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۷ / ۴۸۲، جلالین، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ص۳۷۸، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now