{وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا: اور انہوں نے اللہ اور جنوں کے درمیان نسب کا رشتہ ٹھہرایا۔} بعض مشرکین کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جِنّات میں شادی کی جس سے فرشتے پیدا ہوئے۔ (مَعَاذَ اللہ) اس آیت میں ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ مشرکین اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان نسب کا رشتہ ٹھہرا کر کیسے عظیم کفر کے مُرتکِب ہوئے اور بیشک جنوں کو معلوم ہے کہ یہ بے ہودہ بات کہنے والے ضرور جہنم میں عذاب کے لئے حاضر کئے جائیں گے۔بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں جِنّات سے مراد فرشتے ہیں کیونکہ وہ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں اور کفار نے فرشتوں اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو نسبی رشتہ ٹھہرایا اس سے مراد ان کا یہ کہنا ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔(مَعَاذَ اللہ)(مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۵۸، ص۱۰۱۰-۱۰۱۱، جلالین، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۵۸، ص۳۷۹، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 158 تفسیر