{اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ: تو کیا ہمارے عذاب کی جلدی کرتے ہیں ؟} جب اس سے اوپر والی آیت
نازل ہوئی تو کفار نے مذاق اڑانے کے طور پر کہا کہ یہ عذاب کب نازل ہوگا ؟اس
کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا
خلاصہ یہ ہے کہ کیا اس پختہ وعید کے بعد بھی کفار ہمارے عذاب کی جلدی کرتے ہیں ،
پھر جب ان کے صحن میں وہ عذاب اترے گا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تو
ڈرائے جانے والوں کی کیا ہی بُری صبح ہوگی۔( ابو سعود، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۷۶-۱۷۷، ۴ / ۴۲۵، روح البیان، الصافات، تحت
الآیۃ: ۱۷۶-۱۷۷، ۷ / ۴۹۸- ۴۹۹، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 177 تفسیر