Transliteration: (Uhshurul lazeena zalamoo wa azwaajahum wa maa kaanoo ya'budoon)
{اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا: ظالموں کو اکٹھا کردو۔} اس آیت اورا س کے
بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ظالموں اور ان
کے ساتھیوں کواور اللہ تعالیٰ کے سواجن بتوں کی
یہ پوجا کرتے تھے ان سب کو ایک ہی جگہ اکٹھا کردو،پھران سب کو جہنم کا راستہ
دکھاؤ۔ اس آیت میں ظالموں سے مراد کافر
ہیں اور اُن کے ساتھیوں سے مراد وہ شَیاطین ہیں جو دنیا
میں ان کے ہم نشین اور پاس رہتے تھے ۔ہر ایک کافر اپنے شیطان کے ساتھ
ایک ہی زنجیر میں جکڑدیا جائے گا اور حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ ساتھیوں سے مراداس کی جنس
کے دوسرے افراد ہیں ۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۲۲-۲۳، ۴ / ۱۶، قرطبی، الصافات، تحت
الآیۃ: ۲۲-۲۳، ۸ / ۵۵، الجزء الخامس عشر، ملتقطاً)
یعنی
ہر کافر اپنی ہی قسم کے کفار کے ساتھ ہانکا جائے گا،جیسے بت پرست بت پرستوں کے
ساتھ اور آتش پرست آتش پرستوں کے ساتھ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 22 تفسیر