قرآن - 37:23 سورہ الصافات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

23
مِن دُونِ ٱللَّهِ فَٱهۡدُوهُمۡ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلۡجَحِيمِ

Transliteration: (Min doonil laahi fahdoohum ilaa siraatil Jaheem)

ترجمہ: کنزالایمان - اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ(22)مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ(23) || ظالموں اور ان کے جوڑوں کو اور جو کچھ وہ پوجتے تھے۔ اللہ کے سوا ان سب کو ہانکو رَاہِ دوزخ کی طرف۔ ترجمہ: کنزالعرفان ظالموں اور ان کے ساتھیوں کواور جن کی یہ اللہ کے سواپوجا کرتے تھے ان سب کو اکٹھا کردو۔ پھر ان سب کو دوزخ کا راستہ دکھاؤ۔ || ظالموں اور ان کے ساتھیوں کواور جن کی یہ اللہ کے سواپوجا کرتے تھے ان سب کو اکٹھا کردو۔ پھر ان سب کو دوزخ کا راستہ دکھاؤ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 23 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا: ظالموں  کو اکٹھا کردو۔} اس آیت اورا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں  کو حکم دے گا کہ ظالموں  اور ان کے ساتھیوں  کواور اللہ تعالیٰ کے سواجن بتوں کی یہ پوجا کرتے تھے ان سب کو ایک ہی جگہ اکٹھا کردو،پھران سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ اس آیت میں  ظالموں  سے مراد کافر ہیں  اور اُن کے ساتھیوں  سے مراد وہ شَیاطین ہیں جو دنیا میں  ان کے ہم نشین اور پاس رہتے تھے ۔ہر ایک کافر اپنے شیطان کے ساتھ ایک ہی زنجیر میں  جکڑدیا جائے گا اور حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ ساتھیوں  سے مراداس کی جنس کے دوسرے افراد ہیں ۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۲۲-۲۳، ۴ / ۱۶، قرطبی، الصافات، تحت الآیۃ: ۲۲-۲۳، ۸ / ۵۵، الجزء الخامس عشر، ملتقطاً)

            یعنی ہر کافر اپنی ہی قسم کے کفار کے ساتھ ہانکا جائے گا،جیسے بت پرست بت پرستوں کے ساتھ اور آتش پرست آتش پرستوں  کے ساتھ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now