Transliteration: (Wa inna min shee'atihee la Ibraaheem)
{وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ: اور بیشک اسی کے گروہ سے۔} یہاں سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جارہا ہے۔اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین و ملت اور انہیں کے طریقے پر ہیں۔
حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے درمیان دو ہزار سے زیادہ برس کے زمانے کا فرق ہے اور دونوں حضرات کے درمیان جو زمانہ گزرا اس میں صرف دو نبی، حضرت ہود اورحضرت صالح عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تشریف لائے اور حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے تین نبی، حضرت ادریس،حضرت شیث اور حضرت آدم عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تشریف لائے،اس طرح حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ساتویں نبی ہیں ۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۸۳، ۴ / ۲۰، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۸۳، ص۱۰۰۴، صاوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۸۳، ۵ / ۱۷۴۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 83 تفسیر