Transliteration: (Iz jaaa'a Rabbahoo bi qalbin saleem)
{اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ: جبکہ اپنے رب کے پاس حاضر ہوا۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی
وحدانیّت اور عبادت کی دعوت دی تو اس وقت ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے
لئے اخلاص تھا اور انہوں نے دنیا کی ہر چیز سے اپنے دل کوفارغ کرلیا تھا۔(قرطبی، الصافات، تحت الآیۃ: ۸۴، ۸ / ۶۸، الجزء الخامس عشر، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۸۴، ص۱۰۰۴، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 84 تفسیر