Transliteration: (Faraagha 'alaihim darbam bilyameen)
{فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًا: تو لوگوں سے نظر بچا کر انہیں مارنے لگے۔} جب بتوں نے بالکل کوئی جواب نہ دیا تو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے لوگوں سے نظر بچا کر دائیں ہاتھ میں کلہاڑا اٹھا یا اور ان بتوں کو مارنے لگے یہاں تک کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بتوں کو مار مار کر پارہ پارہ کردیا ۔(بحرالمیحط، الصافات، تحت الآیۃ:۹۳،۷ / ۳۵۱، قرطبی، الصافات، تحت الآیۃ: ۹۳،۸ / ۷۰، الجزء الخامس عشر، ملتقطاً)
نوٹ:اس واقعہ کی تفصیل سورۂ اَنبیاء آیت نمبر57،58میں بیان ہو چکی ہے۔
{فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ: تو کافر اس کی طرف آئے۔} جب کافروں کو اس بات کی خبر پہنچی تو وہ بہت جلد حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس آئے اور ان سے کہنے لگے کہ ہم تو ان بتوں کو پوجتے ہیں اورتم انہیں توڑتے ہو۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۹۴، ۴ / ۲۱، جلالین، الصافات، تحت الآیۃ: ۹۴، ص۳۷۶-۳۷۷، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 93 تفسیر