Transliteration: (Qaala ata'budoona maa tanhitoon)
{قَالَ: فرمایا۔}اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کچھ گفتگو کے بعد حضرت
ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کافروں سے فرمایا: کیا تم ان بتوں کی عبادت کرتے ہوجنہیں تم خود اپنے
ہاتھوں سے تراشتے ہو؟ حالانکہ تمہیں اور تمہارے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور جوخالق ہے وہی در حقیقت عبادت کے لائق ہے جبکہ
مخلوق کسی طرح بھی عبادت کی مستحق نہیں۔( روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۹۵-۹۶، ۷ / ۴۷۱)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 95 تفسیر