قرآن - 37:97 سورہ الصافات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

97
قَالُواْ ٱبۡنُواْ لَهُۥ بُنۡيَٰنٗا فَأَلۡقُوهُ فِي ٱلۡجَحِيمِ

Transliteration: (Qaalub noo lahoo bun yaanan fa alqoohu fil jaheem)

ترجمہ: کنزالایمان - قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ(97) || بولے اس کے لیے ایک عمارت چنو پھر اسے بھڑکتی آگ میں ڈال دو۔ ترجمہ: کنزالعرفان قوم نے کہا: اس کے لیے ایک عمارت بناؤپھر اسے بھڑکتی آگ میں ڈال دو۔ || قوم نے کہا: اس کے لیے ایک عمارت بناؤپھر اسے بھڑکتی آگ میں ڈال دو۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الصافات آیت 97 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قَالُوْا: قوم نے کہا۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا جواب سن کر وہ لوگ حیران ہوگئے اور اُن سے کوئی جواب نہ بن پایا تو کہنے لگے کہ’’ اس کے لیے پتھر کی  لمبی چوڑی چار دیواری بناؤ ، پھر اس کو لکڑیوں  سے بھر دو اور ان میں  آگ لگادو، یہاں  تک کہ جب آگ زور پکڑلے تو پھرانہیں بھڑکتی آگ میں  ڈال دو۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۹۷، ۴ / ۲۱، ملتقطاً) چنانچہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی قوم نے انہیں  ایک کمرے میں  بند کر دیا اور ان کے لئے لکڑیاں  جمع کرنے لگ گئے اور سب نے جوش و خروش سے حصہ لیا ،جب انہوں  نے کثیر تعداد میں  لکڑیاں  جمع کر کے آگ لگائی تو ا س کے شعلے اتنے بلند ہوئے کہ اگر اس طرف سے کوئی پرندہ گزرتا تو وہ اس کی تپش سے جل جاتا تھا۔جب لوگوں  نے عمارت کے کنارے تک حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بلند کیا تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے سر اٹھا کر آسمان کی طر ف دیکھا، اس وقت آسمانوں ، زمینوں ، پہاڑوں  اور فرشتوں  نے فریاد کی: ’’اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، تیرے نام کو بلند کرنے کی پاداش میں  حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جَلایا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’مجھے یہ بات معلوم ہے،اگر وہ تمہیں پکارے تو تم ا س کی مدد کرنا ۔جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو عرض کی: ’’اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، تو واحد ہے اور میں  زمین میں  واحد ہوں  اور زمین میں  میرے علاوہ اور کوئی بندہ ایسا نہیں  جو تیری عبادت کرے۔مجھے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہت ہی اچھا کارساز ہے۔تب اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا: ’’یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ‘‘(الانبیاء:۶۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔( در منثور، الصافات، تحت الآیۃ: ۹۷، ۷ / ۱۰۱-۱۰۲)

          نوٹ:اس واقعے کی بعض تفصیل سورۂ اَنبیاء کی آیت نمبر68کی تفسیر میں  گزر چکی ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now