قرآن - 32:21 سورہ السجدة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

21
وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡأَدۡنَىٰ دُونَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡأَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ

Transliteration: (Wa lanuzeeqan nahum minal 'azaabil adnaa doonal 'azaabil akbari la'allahum yarji'oon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(21) || اور ضرور ہم اُنہیں چکھائیں گے کچھ نزدیک کا عذاب اس بڑے عذاب سے پہلے جسے دیکھنے والا امید کرے کہ ابھی باز آئیں گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ضرور ہم انہیں بڑے عذاب سے پہلے قریب کا عذاب چکھائیں گے (جسے دیکھنے والا کہے) امید ہے کہ یہ لوگ باز آجائیں گے۔ || اور ضرور ہم انہیں بڑے عذاب سے پہلے قریب کا عذاب چکھائیں گے (جسے دیکھنے والا کہے) امید ہے کہ یہ لوگ باز آجائیں گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ السجدة آیت 21 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ: اور ضرور ہم انہیں  چکھائیں  گے۔} اس سے پہلی آیت میں  کفار کو اُخروی عذاب کی وعید سنائی گئی اور یہاں  فرمایا جا رہا ہے کہ جس عذاب کی وعید سنائی وہ تو قیامت کے دن ہو گا لیکن اس سے پہلے ہم کافروں کو دنیا کا عذاب ضرور چکھائیں  گے جو آخرت کے مقابلے میں  قریب اوراُخروی عذاب سے کم ہے تاکہ اس عذاب کو دیکھ کر وہ اپنے کفر اور نافرمانی سے توبہ کریں  اور ایمان لے آئیں ۔(روح المعانی، السجدۃ، تحت الآیۃ: ۲۱، ۱۱ / ۱۸۱)

            ادنیٰ یعنی قریبی عذاب سے مراددنیاکے مَصائب،آفات اور بیماریاں  ہیں  جن میں  بندوں  کو اس لئے مبتلا کیا جاتا ہے تاکہ وہ توبہ کر لیں  ۔ کفارِ مکہ کے ساتھ بھی اسی طرح ہوا کہ وہ اَمراض ومَصائب میں  گرفتار ہوئے ، سات برس قحط کی ایسی سخت مصیبت میں  مبتلا رہے کہ ہڈیاں  ، مردار اور کتے تک کھا گئے اور غزوہِ بدر میں  قتل اور گرفتار بھی ہوئے ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now