Transliteration: (Wa laqad aatainaa Moosal Kitaaba falaa takun fee miryatim mil liqaaa'ihee wa ja'alnaahu hudal li Baneee Israaa'eel)
{وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی۔} ار شاد فرمایا کہ بے شک ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کتاب تورات عطا فرمائی تو تم اس کے ملنے میں شک نہ کرو۔ یا یہ معنی ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے آپ کی جو ملاقات ہوئی اس میں شک نہ کرنا،چنانچہ شبِ معراج حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ملاقات ہوئی جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔( مدارک، السجدۃ، تحت الآیۃ: ۲۳، ص۹۲۸، خازن، السجدۃ، تحت الآیۃ: ۲۳، ۳ / ۴۷۹، ملتقطاً)
اور ان میں سے ایک حدیث یہ ہے،چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’معراج کی رات میں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھا کہ وہ گندمی رنگ،دراز قد اور گھنگریالے بالوں والے ہیں ، گویا کہ وہ قبیلہ شَنُوْ ءَ ہْ کے ایک فرد ہیں ۔( بخاری، کتاب بدء الخلق، باب اذا قال احدکم: آمین والملائکۃ فی السماء۔۔۔ الخ، ۲ / ۳۸۹، الحدیث: ۳۲۳۹)
{وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى: اور ہم نے اسے ہدایت بنایا۔} اس کا ایک معنی یہ ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا۔دوسرا معنی یہ ہے کہ ہم نے تورات کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا۔( جلالین، السجدۃ، تحت الآیۃ: ۲۳، ص۳۵۰، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ السجدة آیت 23 تفسیر