Transliteration: (Taa-Seeen-Meeem)
{طٰسٓمّٓ} یہ حروفِ مُقَطَّعات میں سے ایک حرف ہے اور ا س کی مراد اللہ تعالٰی اور اس کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی بہتر جانتے ہیں۔
{تِلْكَ: یہ} یعنی اِس سورت کی آیتیں اُس قرآن کی آیتیں ہیں جس کا مُعْجِز یعنی دوسروں کو مقابلے سے عاجز کر دینے والا نیز اللہ تعالٰی کا کلام ہونا روشن و ظاہر ہے اور جس کا حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہونا واضح ہے۔اگر اس کی یہ شان نہ ہوتی تو لوگ اس کی مثل لانے پر ضرور قادر ہو جاتے اور اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز نہ رہتے۔( روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲، ۶ / ۲۶۱، جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲، ص۳۰۹، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 1 تفسیر