قرآن - 26:110 سورہ الشعراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

110
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ

Transliteration: (Fattaqul laaha wa atee'oon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ مَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍۚ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(109)فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِﭤ(110) || اور میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور میں اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ || اور میں اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 110 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ مَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ: اور میں  اس پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں  مانگتا۔} اس سے پہلی آیات میں  بیان ہوا کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی امانت داری کا وصف بیان کر کے لوگوں  کو اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرایا اور اپنی اطاعت کرنے کی ترغیب دلائی اور یہاں  سے یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے لالچ وطمع سے خالی ہونے کو بیان کر کے اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرایا اور اطاعت کی طرف راغب کیا،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا: میں  رسالت کی ادائیگی پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں  مانگتا، میرا اجر و ثواب تو اسی کے ذمہ ِکرم پر ہے جو سارے جہان کا رب عَزَّوَجَلَّ ہے تو تم اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرواور میری اطاعت کرو۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now