Transliteration: (Fattaqullaaha wa atee'oon)
{اِذْ قَالَ لَهُمْ: جب ان سے فرمایا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم ’’عاد‘‘ نے انہیں ا س وقت جھٹلایا جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا: ’’تم جس کفر و شرک میں مبتلا ہو،کیا اس پر تم اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرتے نہیں ۔بیشک میں اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک ایسا رسول ہوں جس کی امانت داری تم میں مشہور ہے اور میںاللہ تعالٰی کی وحی کا امین ہوں تو تم مجھے جھٹلانے میں اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرو اور میں تمہیں جو حکم دوں اس میں میری اطاعت کرو۔(مدارک،الشعراء،تحت الآیۃ:۱۲۴-۱۲۶، ص۸۲۶، روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۲۴-۱۲۶، ۶ / ۲۹۴، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 126 تفسیر