Transliteration: (Fattaqul laaha wa atee'oon)
{اَمِیْنٌ: امانتدار۔} اس آیت اور اس کے
بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قومِ ثمود سے
فرمایا: مجھے اللہ تعالٰی نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں
اس کے حکم کی خلاف ورزی کرنے پر اس کے عذاب سے ڈراؤں اور جس رسالت کے
ساتھ اس نے مجھے تمہاری طرف بھیجا میں اس پر امین ہوں ، تو اےمیری
قوم!تم اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرو اور میری اطاعت کر کے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم پر عمل کرو۔(تفسیرطبری، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۴۳-۱۴۴، ۹ / ۴۶۴)
خیانت اور نبوت جمع
نہیں ہوسکتیں :
اس
سے معلوم ہوا کہ حضرات ِانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام اَسرارِ اِلٰہیہ
اور لوگوں کی عزت، مال آبرو وغیرہ سب کے امین ہوتے ہیں ۔ خیانت
اور نبوت جمع نہیں ہوسکتیں ۔ ہمارے حضو رپُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اہل ِمکہ بچپن شریف سے
محمد امین پکارتے تھے اوراعلانِ نبوت سے پہلے اور بعد میں بھی آپ کے
پاس امانتیں رکھتے رہے اور اپنے فیصلے حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کرواتے تھے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 144 تفسیر