قرآن - 26:144 سورہ الشعراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

144
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ

Transliteration: (Fattaqul laaha wa atee'oon)

ترجمہ: کنزالایمان - اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ(143)فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ(144) || بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانت دار رسول ہوں ۔ تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں ۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ || بیشک میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں ۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 144 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اَمِیْنٌ: امانتدار۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قومِ ثمود سے فرمایا: مجھے اللہ تعالٰی نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ میں  تمہیں اس کے حکم کی خلاف ورزی کرنے پر اس کے عذاب سے ڈراؤں  اور جس رسالت کے ساتھ اس نے مجھے تمہاری طرف بھیجا میں  اس پر امین ہوں ، تو اےمیری قوم!تم اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرو اور میری اطاعت کر کے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم پر عمل کرو۔(تفسیرطبری، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۴۳-۱۴۴، ۹ / ۴۶۴)

خیانت اور نبوت جمع نہیں  ہوسکتیں :

            اس سے معلوم ہوا کہ حضرات ِانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اَسرارِ اِلٰہیہ اور لوگوں  کی عزت، مال آبرو وغیرہ سب کے امین ہوتے ہیں ۔ خیانت اور نبوت جمع نہیں  ہوسکتیں ۔ ہمارے حضو رپُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اہل ِمکہ بچپن شریف سے محمد امین پکارتے تھے اوراعلانِ نبوت سے پہلے اور بعد میں  بھی آپ کے پاس امانتیں  رکھتے رہے اور اپنے فیصلے حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کرواتے تھے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now