Transliteration: (Fattaqul laaha wa atee'oon)
}فٰرِهِیْنَ: بڑی مہارت دکھاتے ہوئے۔{ اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ
ہے کہ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قوم سے فرمایا: تم بڑی مہارت دکھاتے ہوئے، اپنی
صَنعت پر غرور کرتے اوراِتراتے ہوئے پہاڑوں میں سے گھر تراشتے ہو اور ان
گھروں کو بنانے سے تمہارا مقصد رہائش اختیار کرنا نہیں بلکہ صرف اپنی
مہارت پر غرور کرنا ہے تو تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے
ڈرو اور میری اطاعت کرتے ہوئے وہ اعمال کرو جن کا تمہیں دنیا اور آخرت
میں فائدہ ہو اور حد سے بڑھنے والوں کے کہنے پر نہ چلو۔حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ مُسْرِفِینَ سے مراد مشرکین ہیں ۔بعض مفسرین نے کہا کہ مُسْرِفِیۡنَ سے مراد وہ نو شخص ہیں جنہوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا۔(ابن کثیر، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۴۹-۱۵۱، ۶ / ۱۴۰، خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۴۹-۱۵۱، ۳ / ۳۹۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 150 تفسیر