Transliteration: (Qaalooo innamaa anta minal musahhareen)
{قَالُوْۤا: قوم نے کہا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قومِ ثمود نے حضرت
صالح عَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نصیحتوں کے جواب میں کہا ’’تم ان
میں سے ہو جن پر بار بار بکثرت جادو ہوا ہے جس کی وجہ سے عقل و حواس
قائم نہیں رہے۔ (مَعَاذَ اللہ) تم تو ہم جیسے ہی ایک آدمی ہو کہ جیسے ہم کھاتے پیتے
ہیں اسی طرح تم بھی کھاتے پیتے ہو، اگرتم رسالت کے دعوے میں سچے ہو تو اپنی سچائی کی کوئی نشانی لے
کرآؤ۔( خازن،
الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۳-۱۵۴، ۳ / ۳۹۳، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۳-۱۵۴،ص۸۲۸، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 153 تفسیر