قرآن - 26:165 سورہ الشعراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

165
أَتَأۡتُونَ ٱلذُّكۡرَانَ مِنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ

Transliteration: (Ataatoonaz zukraana minal 'aalameen)

ترجمہ: کنزالایمان - اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَ(165) || کیا مخلوق میں مَردوں سے بدفعلی کرتے ہو۔ ترجمہ: کنزالعرفان کیاتم لوگوں میں سے مردوں سے بدفعلی کرتے ہو۔ || کیاتم لوگوں میں سے مردوں سے بدفعلی کرتے ہو۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 165 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ: کیاتم مردوں  سے بدفعلی کرتے ہو۔} اس آیت کاایک معنی یہ بھی ہو سکتاہے کہ کیا مخلوق میں  ایسے قبیح اور ذلیل فعل کے لئے تمہیں  رہ گئے ہو،دنیا جہاں  کے اور لوگ بھی تو ہیں ، انہیں  دیکھ کر تمہیں  شرمانا چاہئے۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتاہے کہ کثیر عورتیں  موجودہوتے ہوئے اس قبیح فعل کا مُرتکِب ہونا انتہا درجہ کی خباثت ہے۔مروی ہے کہ اس قوم کو یہ خبیث عمل شیطان نے سکھایا تھا۔( مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۶۵، ص۸۲۸، روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۶۵، ۶ / ۳۰۱، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now