{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً: بیشک اس میں ضرور نشانی ہے۔} یعنی جو کچھ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے ساتھ کیا گیا، ا س میں ان کے بعد والوں کے لئے
ضرور عبرت کی نشانی ہے تاکہ وہ اس قوم کے جیسا گندا ترین کام نہ کریں اور ان
پر بھی ویساعذاب نازل نہ ہو جیسا حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر نازل ہوا اور حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم میں سے بھی بہت تھوڑے لوگ ہی آپ پر ایمان لائے تھے۔( روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۷۴، ۶ / ۳۰۲)اس لئے اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کم لوگوں کے ایمان لانے پر غمزدہ نہ ہوں۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 174 تفسیر