Transliteration: (Awful kaila wa laa takoonoo minal mukhsireen)
{اَوْفُوا الْكَیْلَ: (اے
لوگو!) ناپ پورا کرو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی3 آیات کا خلاصہ
یہ ہے کہ ناپ تول میں کمی کرنا،لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے دینا،رہزنی اور لوٹ
مار کرکے اور کھیتیاں تباہ کرکے زمین میں فساد پھیلانا ان لوگوں کی عادت تھی اس
لئے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں ان کاموں سے
منع فرمایا اور ناپ تول پورا کرنے کا حکم دیا اور اس کے بعدساری مخلوق کو پیدا
کرنے والے رب تعالٰی کے عذاب سے ڈرایا۔
اس سے معلوم ہوا کہ
نبی عَلَیْہِ السَّلَام صرف عبادات ہی سکھانے نہیں
آتے بلکہ اعلیٰ اَخلاق، سیاسیات، معاملات کی درستگی کی تعلیم بھی دیتے ہیں
۔ اللہ تعالٰی ہمیں بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 181 تفسیر