Transliteration: (Wa maaa anta illaa basharum mislunaa wa innazunnuka laminal kaazibeen)
{قَالُوْا: قوم نے کہا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ
لوگوں نے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نصیحت سن کر کہا:اے شعیب!تم تو ان لوگوں میں
سے ہو جن پر جادو ہوا ہے اورتم کوئی فرشتے نہیں بلکہ ہمارے جیسے ایک آدمی ہی ہواور
تم نے جونبوت کا دعویٰ کیا بے شک ہم تمہیں اس میں جھوٹا سمجھتے ہیں ۔ اگر تم نبوت
کے دعوے میں سچے ہو تو اللہ تعالٰی سے دعا کرو کہ وہ عذاب کی صورت میں ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا
گرا دے۔( مدارک، الشعراء،تحت الآیۃ:۱۸۵-۱۸۷،ص۸۳۰، روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۸۵-۱۸۷، ۶ / ۳۰۴، ملتقطاً)
{وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا: تم تو ہمارے جیسے ایک آدمی ہی ہو۔} صدر الافاضل مفتی
نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’نبوت کا انکار کرنے والے
اَنبیاء( عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام )کی نسبت
میں بِالعموم یہی کہا کرتے تھے۔ جیسا کہ آج کل کے بعض فاسد العقیدہ
کہتے ہیں ۔( خزائن العرفان،
الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۸۶، ص۶۹۵)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 186 تفسیر