Transliteration: (Wa tawakkal alal 'Azeezir Raheem)
{وَ تَوَكَّلْ: اور بھروسہ کرو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنے تمام کام اللہ تعالٰی کے سپرد فرما دیں جو کہ اپنے دشمنوں کو مغلوب کرنے اور اپنے محبوب بندوں کی مدد کرنے پر قادر ہے،ان مشرکین میں سے یا ان کے علاوہ دیگر لوگوں میں سے جوکوئی بھی آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو آپ کی طرف سے اللہ تعالٰی اسے کافی ہوگا۔(ابوسعود، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۱۷، ۴ / ۱۸۱، ملخصاً)
توکل کامعنی :
توکل کامعنی یہ ہے کہ آدمی اپنا کام اس کے سپرد کر دے جو اس کے کام کا مالک اور اسے نفع و نقصان پہنچانے پر قادر ہے اور وہ صرف اللہ تعالٰی ہے جو کہ تمہارے دشمنوں پر اپنی قوت سے غالب ہے اور اپنی رحمت سے ان کے خلاف تمہاری مدد فرماتا ہے۔( خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۱۷، ۳ / ۳۹۸)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 217 تفسیر