Transliteration: (Hal unabbi'ukum 'alaa man tanazzalush Shayaateen)
{هَلْ اُنَبِّئُكُمْ: کیا میں تمہیں بتادوں ۔} بعض مشرکین یہ کہتے تھے کہ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر (مَعَاذَاللہ) شیطان اُترتے ہیں ۔ اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات میں اللہ تعالٰی نے اُن مشرکوں کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ اے مشرکین!کیا میں تمہیں بتادوں کہ شیطان کس پراترتے ہیں ؟ یہ فرمانے کے بعد بتایا کہ شیطان بڑے بہتان باندھنے والے، گناہگار جیسے مُسَیْلِمَہ وغیرہ کاہنوں پراترتے ہیں اور شیطان فرشتوں سے سنی ہوئی باتیں ان کاہنوں کے سامنے ذکر کرتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہیں کیونکہ وہ فرشتوں سے سنی ہوئی باتوں میں اپنی طرف سے بہت سی جھوٹی باتیں ملادیتے ہیں ۔( مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۲۱-۲۲۳، ص۸۳۴-۸۳۵، جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۲۱-۲۲۳، ص۳۱۶،ابو سعود، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۲۱-۲۲۳، ۴ / ۱۸۲، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 221 تفسیر