Transliteration: (Inna haaa'ulaaa'i lashir zimatun qaleeloon)
{فَاَرْسَلَ: تو اس نے بھیجے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کے حکم کے مطابق حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات مصر سے نکل گئے اور جب فرعون نے ان کے مصر سے نکلنے کی خبر سنی تو اس نے لشکر جمع کرنے کے لئے شہروں میں قاصدبھیجے، جب لشکر جمع ہوگئے تو ان کی کثرت کے مقابلے میں بنی اسرائیل کی تعداد تھوڑی معلوم ہونے لگی، چنانچہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بارے میں کہا: یہ لوگ ایک تھوڑی سی جماعت ہیں اور بیشک یہ ہماری مخالفت کرکے اور ہماری اجازت کے بغیر ہماری سرزمین سے نکل کر ہم سب کا دل جلاتے اور ہمیں غصہ دلانے والے ہیں اور بیشک ہم سب ہتھیاروں سے لیس اور ہوشیار ہیں ۔( جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۵۳-۵۶، ص۳۱۱، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۵۳-۵۶، ص۸۲۰، خازن، الشعراء، تحت الآیۃ:۵۳-۵۶، ۳ / ۳۸۷، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 54 تفسیر