قرآن - 26:57 سورہ الشعراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

57
فَأَخۡرَجۡنَٰهُم مِّن جَنَّـٰتٖ وَعُيُونٖ

Transliteration: (Fa akhrajnaahum min Jannaatinw wa 'uyoon)

ترجمہ: کنزالایمان - فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ(57)وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍ(58)كَذٰلِكَؕ-وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَﭤ(59) || تو ہم نے انہیں باہر نکالا باغوں اور چشموں ۔ اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے۔ ہم نے ایسا ہی کیا اور ان کا وارث کردیا بنی اسرائیل کو۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو ہم نے انہیں (فرعون اور اس کی قوم کو) باغوں اور چشموں (کی زمین) سے باہر نکالا۔ اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے۔ ہم نے ایسے ہی کیا اور بنی اسرائیل کو ان کا وارث بنادیا۔ || تو ہم نے انہیں (فرعون اور اس کی قوم کو) باغوں اور چشموں (کی زمین) سے باہر نکالا۔ اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے۔ ہم نے ایسے ہی کیا اور بنی اسرائیل کو ان کا وارث بنادیا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 57 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَاَخْرَجْنٰهُمْ: تو ہم نے انہیں  باہر نکالا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیتوں  کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے فرعون اور اس کی قوم کوباغوں  اور چشموں کی سرزمین مصرسے اورسونے چاندی کے خزانوں  اور عمدہ مکانوں  سے باہر نکالا تاکہ وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور بنی اسرائیل تک پہنچیں اور اللہ تعالٰی نے فرعونیوں  کو ایسے ہی ان کے وطن سے نکالا جیساکہ بیان ہوا، پھرفرعون اور اس کی قوم کو غرق کر دئیے جانے کے بعد اللہ تعالٰی نے بنی اسرائیل کو فرعونیوں  کی سرزمین اور ان کے خزانوں اور مکانوں  کاوارث بنادیا۔(جلالین،الشعراء،تحت الآیۃ:۵۷-۵۹، ص۳۱۱-۳۱۲، روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۵۷-۵۹ ، ۶ / ۲۷۷-۲۷۸، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now