Transliteration: (Fa akhrajnaahum min Jannaatinw wa 'uyoon)
{فَاَخْرَجْنٰهُمْ: تو ہم نے انہیں باہر نکالا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے فرعون اور اس کی قوم کوباغوں اور چشموں کی سرزمین مصرسے اورسونے چاندی کے خزانوں اور عمدہ مکانوں سے باہر نکالا تاکہ وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور بنی اسرائیل تک پہنچیں اور اللہ تعالٰی نے فرعونیوں کو ایسے ہی ان کے وطن سے نکالا جیساکہ بیان ہوا، پھرفرعون اور اس کی قوم کو غرق کر دئیے جانے کے بعد اللہ تعالٰی نے بنی اسرائیل کو فرعونیوں کی سرزمین اور ان کے خزانوں اور مکانوں کاوارث بنادیا۔(جلالین،الشعراء،تحت الآیۃ:۵۷-۵۹، ص۳۱۱-۳۱۲، روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۵۷-۵۹ ، ۶ / ۲۷۷-۲۷۸، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 57 تفسیر