قرآن - 26:82 سورہ الشعراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

82
وَٱلَّذِيٓ أَطۡمَعُ أَن يَغۡفِرَ لِي خَطِيٓـَٔتِي يَوۡمَ ٱلدِّينِ

Transliteration: (Wallazeee atma'u ai yaghfira lee khateee' atee Yawmad Deen)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓــٴَـتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِﭤ(82) || اور وہ جس کی مجھے آس لگی ہے کہ میری خطائیں قیامت کے دن بخشے گا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور وہ جس سے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری خطائیں بخش دے گا۔ || اور وہ جس سے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری خطائیں بخش دے گا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 82 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ: اور وہ جس سے مجھے امید ہے۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آخر میں  اللہ تعالٰی کا یہ وصف بیان فرمایا کہ میں  اس رب تعالٰی کی عبادت کرتا ہوں  جس سے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن وہ میری خطائیں  بخش دے گا۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اللہ تعالٰی کی ان صفات کو بیان کرنا اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لئے ہے کہ معبود صرف وہی ہوسکتا ہے جس کی یہ صفات ہوں ۔ یاد رہے کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معصوم ہیں ،اُن سے گناہ صادِر نہیں  ہوتے۔ اُن کا استغفار کرنا در اصل اپنے رب تعالٰی کی بارگاہ میں  عاجزی و اِنکساری کا اظہار ہے اور اس میں  امت کو یہ تعلیم دینا مقصود ہے کہ وہ مغفرت طلب کرتے رہا کریں ۔( خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۸۲، ۳ / ۳۸۹، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۸۲، ص۸۲۳، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now