{لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے لیے ہیں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ آسمان وزمین کے
تمام خزانوں کی کنجیاں خواہ وہ بارش کے خزانے ہوں یا رزق کے یا زمین سے نکلنے والے
جواہرات وغیرہ کے، سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے ،جبکہ بتوں کو
ان میں سے کسی چیز پر کوئی مِلکیَّت حاصل نہیں ۔اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق جس کے لیے چاہتا ہے روزی وسیع کرتا ہے اور جس کے لئے
چاہے تنگ فرماتا ہے کیونکہ وہ مالک ہے اور رزق کی چابیاں اسی کے دست ِقدرت میں ہیں
، جبکہ بتوں کا حال ایسا نہیں ہے ۔بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ خوب جاننے والاہے
اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس کی حکمت کے مطابق کس کو مال دیا جائے اور کس کو نہ
دیا جائے ، جبکہ بتوں کی یہ اوقات نہیں کہ وہ ایسا کر سکیں ، تو پھر ان عاجز،بے بس اور جامِد
بتوں کو معبود ہونے میں اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دے دینا کس طرح روا ہو سکتا ہے؟(جلالین مع صاوی ، الشوری ، تحت الآیۃ
: ۱۲ ، ۵ / ۱۸۶۵ ، خازن ، الشوری، تحت الآیۃ: ۱۲، ۴ / ۹۲، تفسیرکبیر، الشوری، تحت
الآیۃ: ۱۲، ۹ / ۵۸۶، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشورى آیت 12 تفسیر