قرآن - 42:53 سورہ الشورى ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

53
صِرَٰطِ ٱللَّهِ ٱلَّذِي لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ أَلَآ إِلَى ٱللَّهِ تَصِيرُ ٱلۡأُمُورُ

Transliteration: (Siraatil laahil lazee lahoo maa fis samaawaati wa maa fil ard; alaaa ilal laahi taseerul umoor (section 5))

ترجمہ: کنزالایمان - وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَاؕ-مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰـكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَاؕ-وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(52)صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ(53) || اور یونہی ہم نے تمہیں وحی بھیجی ایک جانفزا چیز اپنے حکم سے اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکامِ شرع کی تفصیل ہاں ہم نے اُسے نور کیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں سے جسے چاہتے ہیں اور بے شک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو۔ اللہ کی راہ کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں سنتے ہو سب کام اللہ ہی کی طرف پھرتے ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور یونہی ہم نے تمہاری طرف اپنے حکم سے روح (قرآن) کی وحی بھیجی۔اس سے پہلے نہ تم کتاب کوجانتے تھے نہ شریعت کے احکام کی تفصیل کو۔لیکن ہم نے قرآن کو نور کیا جس سے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھاتے ہیں اور بیشک تم ضرور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہو۔ اس اللہ کے راستے کی طرف (کہ) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں سب اسی کا ہے۔ سن لو! سب کام اللہ ہی کی طرف پھرتے ہیں ۔ || اور یونہی ہم نے تمہاری طرف اپنے حکم سے روح (قرآن) کی وحی بھیجی۔اس سے پہلے نہ تم کتاب کوجانتے تھے نہ شریعت کے احکام کی تفصیل کو۔لیکن ہم نے قرآن کو نور کیا جس سے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھاتے ہیں اور بیشک تم ضرور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہو۔ اس اللہ کے راستے کی طرف (کہ) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں سب اسی کا ہے۔ سن لو! سب کام اللہ ہی کی طرف پھرتے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشورى آیت 53 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا: اور یونہی ہم نے تمہاری طرف اپنے حکم سے روح (قرآن) کی وحی بھیجی۔} انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی کی صورتیں  بیان فرمانے کے بعد اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جس طرح ہم نے اپنے تمام رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی یونہی ہم نے اپنے حکم سے آپ کی طرف قرآنِ پاک کی وحی بھیجی جو کہ دلوں  میں  زندگی پیدا کرتا ہے ورنہ ہمارے بتانے سے پہلے نہ تم کتاب کوجانتے تھے اورنہ شریعت کے احکام کی تفصیل کو جانتے تھے، لیکن ہم نے قرآن کو نور کیا جس سے ہم اپنے بندوں  میں  سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھاتے ہیں  اور بیشک تم ضرور سیدھے راستے یعنی دینِ اسلام کی طرف رہنمائی کرتے ہو۔( تفسیرکبیر، الشوری، تحت الآیۃ: ۵۲، ۹ / ۶۱۴-۶۱۵، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۵۲، ۴ / ۱۰۱، ملتقطاً)

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن ایمان کی جان ہے کہ اس کی تلاوت اور فہم سے ایمان میں  جان پڑجاتی ہے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن سے سب ہدایت نہیں  پاتے بلکہ وہ ہی ہدایت پاتا ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے اوراللہ تعالیٰ کے اِذن سے حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہدایت دیتے ہیں ۔

{صِرَاطِ اللّٰهِ: اللہ کے راستے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اس اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں  کے لئے مقرر فرمائے ہوئے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں  جو آسمانوں  اور زمین میں  موجود تمام چیزوں  کا مالک ہے، سن لو! آخرت میں  مخلوق کے سب کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف پھریں  گے تو وہ نیک انسان کو ثواب اور گناہگار کو سزا دے گا۔( خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۵۳، ۴ / ۱۰۱)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now