Transliteration: (Fa-in a'radoo famaaa arsalnaaka 'alaihim hafeezan in 'alaika illal balaagh; wa innaaa izaaa azaqnal insaana minnaa rahmatan fariha bihaa wa in tusibhum saiyi'atun bimaa qaddamat aydeehim fa innal insaana kafoor)
{فَاِنْ اَعْرَضُوْا: تو اگر وہ منہ پھیریں
۔} اس آیت
میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ا رشاد
فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے دینِ اسلام کی دعوت دینے کے باوجود اگر وہ مشرکین ایمان
لانے اور آپ کی اطاعت کرنے سے منہ پھیر رہے ہیں تو آپ انہیں ان کے
حال پر چھوڑ دیں ، کیونکہ ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا
کہ آپ پر ان کے اعمال کی حفاظت لازم ہو،آپ پر صرف رسالت کی تبلیغ کی ذمے داری ہے
اور وہ آپ نے ادا کردی۔( تفسیرطبری، الشوری،
تحت الآیۃ: ۴۸، ۱۱
/ ۱۶۱، خازن، الشوری، تحت
الآیۃ: ۴۸، ۴ /
۱۰۰، جلالین، الشوری، تحت
الآیۃ: ۴۸،
ص۴۰۵، ملتقطاً)
{وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ
اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً: جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے
ہیں ۔} آیت کے اس حصے کا
خلاصہ یہ ہے کہ جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے
ہیں خواہ وہ دولت و ثروت ہو یا صحت و عافِیّت، امن و سلامتی ہو یا مقام
و مرتبہ تووہ اس پر خوشی میں اِترانے اور فخر کرنے لگ جاتا ہے اور اگر
انہیں ان کی نافرمانیوں اور مَعصِیَتوں کی وجہ
سے کوئی برائی پہنچے یااور کوئی مصیبت و بلا جیسے قحط ، بیماری اور تنگ دستی وغیرہ
رُونُما ہو تو انسان بڑا ناشکرا ہوجاتاہے اور ان مصیبتوں کو دیکھ کر
نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔( خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۸، ۴ / ۱۰۰، مدارک، الشوری، تحت
الآیۃ: ۴۸، ص۱۰۹۲، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشورى آیت 48 تفسیر