Transliteration: (Taraz zaalimeena mushfiqeena mimmaa kasaboo wa huwa waaqi'um bihim; wallazeena aamanoo wa 'amilus saalihaati fee rawdaatil jannaati lahum maa yashaaa'oona 'inda Rabbihim; zaalika huwal fadlul kabeer)
{تَرَى الظّٰلِمِیْنَ: تم ظالموں کو دیکھو گے۔} اس آیت میں قیامت کے دن عذاب کے حق داروں اور ثواب پانے والوں کا حال بیان کیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ تم قیامت کے دن ظالموں کو اس حال میں دیکھو گے کہ وہ اس اندیشے سے اپنے کفر اور خبیث اعمال سے ڈر رہے ہوں گے کہ اب انہیں ان اعمال کی سزا ملنے والی ہے۔یہ چاہے ڈریں یا نہ ڈریں ، ان کے اعمال کا وبال ان پر ضرور پڑ کر رہے گا اور یہ اس سے کسی طرح بچ نہیں سکتے اور ایمان لانے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کا حال یہ ہو گا کہ وہ جنتوں کے نعمتوں سے بھرے ہوئے باغات میں ہوں گے کیونکہ وہ جنت کے سب سے زیادہ پاکیزہ مقام ہیں ۔ ان کے لیے ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس وہ تمام چیزیں ہوں گی جو وہ چاہیں گے اورتھوڑے عمل پریہی بڑا فضل ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ فاسق و فاجر مسلمان بھی(اپنے اعمال کی سزا پانے کے بعد یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا کے بغیر ہی بخش دئیے جانے کے بعد ) جنت میں جائیں گے البتہ وہاں ان کے مقام میں فرق ہو گا کہ اچھے اعمال کرنے والے مسلمان پھولوں سے بھرے ہوئے باغات میں ہوں گے اور ان کے علاوہ مسلمان جنت کے دیگر حصوں میں ہوں گے۔(تفسیرکبیر، الشوری، تحت الآیۃ: ۲۲، ۹ / ۵۹۳، مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: ۲۲، ص۱۰۸۶، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشورى آیت 22 تفسیر