قرآن - 42:22 سورہ الشورى ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

22
تَرَى ٱلظَّـٰلِمِينَ مُشۡفِقِينَ مِمَّا كَسَبُواْ وَهُوَ وَاقِعُۢ بِهِمۡۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فِي رَوۡضَاتِ ٱلۡجَنَّاتِۖ لَهُم مَّا يَشَآءُونَ عِندَ رَبِّهِمۡۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡكَبِيرُ

Transliteration: (Taraz zaalimeena mushfiqeena mimmaa kasaboo wa huwa waaqi'um bihim; wallazeena aamanoo wa 'amilus saalihaati fee rawdaatil jannaati lahum maa yashaaa'oona 'inda Rabbihim; zaalika huwal fadlul kabeer)

ترجمہ: کنزالایمان - تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْؕ-وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِۚ- لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْؕ- ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ(22) || تم ظالموں کو دیکھو گے کہ اپنی کمائیوں سے سہمے ہوئے ہوں گے اور وہ ان پر پڑ کر رہیں گی اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہ جنت کی پھلواریوں میں ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہیں جو چاہیں یہی بڑا فضل ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم ظالموں کو دیکھو گے کہ اپنے کمائے ہوئے اعمال سے ڈر رہے ہوں گے اوران کی کمائیاں ان پر پڑ کر رہیں گی اور ایمان لانے والے اور اچھے اعمال کرنے والے جنتوں کے پھولوں سے بھرے ہوئے باغات میں ہوں گے۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ تمام چیزیں ہوں گی جو وہ چاہیں گے، یہی بڑا فضل ہے۔ || تم ظالموں کو دیکھو گے کہ اپنے کمائے ہوئے اعمال سے ڈر رہے ہوں گے اوران کی کمائیاں ان پر پڑ کر رہیں گی اور ایمان لانے والے اور اچھے اعمال کرنے والے جنتوں کے پھولوں سے بھرے ہوئے باغات میں ہوں گے۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ تمام چیزیں ہوں گی جو وہ چاہیں گے، یہی بڑا فضل ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشورى آیت 22 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{تَرَى الظّٰلِمِیْنَ: تم ظالموں  کو دیکھو گے۔} اس آیت میں  قیامت کے دن عذاب کے حق داروں  اور ثواب پانے والوں  کا حال بیان کیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ تم قیامت کے دن ظالموں  کو اس حال میں  دیکھو گے کہ وہ اس اندیشے سے اپنے کفر اور خبیث اعمال سے ڈر رہے ہوں  گے کہ اب انہیں  ان اعمال کی سزا ملنے والی ہے۔یہ چاہے ڈریں  یا نہ ڈریں  ، ان کے اعمال کا وبال ان پر ضرور پڑ کر رہے گا اور یہ اس سے کسی طرح بچ نہیں  سکتے اور ایمان لانے والوں  اور اچھے اعمال کرنے والوں  کا حال یہ ہو گا کہ وہ جنتوں  کے نعمتوں  سے بھرے ہوئے باغات میں  ہوں  گے کیونکہ وہ جنت کے سب سے زیادہ پاکیزہ مقام ہیں ۔ ان کے لیے ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس وہ تمام چیزیں  ہوں  گی جو وہ چاہیں  گے اورتھوڑے عمل پریہی بڑا فضل ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ فاسق و فاجر مسلمان بھی(اپنے اعمال کی سزا پانے کے بعد یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا کے بغیر ہی بخش دئیے جانے کے بعد ) جنت میں  جائیں  گے البتہ وہاں  ان کے مقام میں  فرق ہو گا کہ اچھے اعمال کرنے والے مسلمان پھولوں سے بھرے ہوئے باغات میں  ہوں  گے اور ان کے علاوہ مسلمان جنت کے دیگر حصوں  میں  ہوں  گے۔(تفسیرکبیر، الشوری، تحت الآیۃ: ۲۲، ۹ / ۵۹۳، مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: ۲۲، ص۱۰۸۶، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now