قرآن - 9:123 سورہ التوبة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

123
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قَٰتِلُواْ ٱلَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ ٱلۡكُفَّارِ وَلۡيَجِدُواْ فِيكُمۡ غِلۡظَةٗۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ,

Transliteration: (Yaaa aiyuhal lazeena aamanoo qaatilul lazeena yaloonakum minal kuffaari walyajidoo feekum ghilzah; wa'lamooo annal laaha ma'al muttaqeen)

ترجمہ: کنزالایمان - یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةًؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ(123) || اے ایما ن والو جہاد کرو ان کافروں سے جو تمہارے قریب ہیں اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی پائیں اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اے ایما ن والو! ان کافروں سے جہاد کرو جو تمہارے قریب ہیں اور وہ تم میں سختی پائیں اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ || اے ایما ن والو! ان کافروں سے جہاد کرو جو تمہارے قریب ہیں اور وہ تم میں سختی پائیں اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ التوبة آیت 123 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ:ان کافروں سے جہاد کرو جو تمہارے قریب ہیں۔} جہاد تمام کافروں سے واجب ہے قریب کے ہوں یا دُور کے لیکن قریب والے مُقَدَّم ہیں پھر جواُن سے مُتّصل ہوں ایسے ہی درجہ بدرجہ ۔ (مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ص۴۶۰)

کفار سے جنگ کرنے کے آداب

            اس آیت میں کفار سے جنگ کے آداب سکھائے گئے ہیں کہ جنگ کی شرعی اجازت جب متحقق ہوجائے تو اس کی ابتدا قریب میں رہنے والے کفار سے کی جائے پھر ان کے بعد جو قریب ہوں حتّٰی کہ مسلمان مجاہدین دور کی آبادیوں میں رہنے والے کفار تک پہنچ جائیں۔ اسی طریقے سے تمام کفار سے جہاد ممکن ہے ورنہ ایک ہی بار سب سے جنگ کرنا مُتَصَوَّر نہیں ،یہی وجہ ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پہلے اپنی قوم سے جہاد فرمایا ،پھر پورے عرب سے ، پھر اہلِ کتاب سے اور ان کے بعد روم اور شام والوں سے جنگ کی۔ پھر نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصال کے بعد صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عراق اور پھر تمام شہروں تک جنگ کا دائرہ وسیع کیا۔ (صاوی، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۳ / ۸۴۹)

{وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً:اور وہ تم میں سختی پائیں۔}اس سختی میں جرأت و بہادری، قتال پر صبر اور قتل یا قید کرنے میں شدت وغیرہ ہر قسم کی مضبوطی و سختی داخل ہے۔ (روح المعانی، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۶ / ۶۸) جو کفار اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنیں ان سے سختی کے ساتھ نمٹنے کا حکم ہے ، یہاں یہ نہیں فرمایا کہ ہر وقت سختی ہی کرتے رہیں کیونکہ ہمیں تو دورانِ جہاد بھی عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں اور پادریوں وغیرہ کو قتل نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

{وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ:اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔}اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کا جہاد اور کفار کو قتل کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف کی وجہ سے ہو نہ کہ مال و دولت یا منصب ومرتبے کے حصول کی غرض سے ہو۔( تفسیر کبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۶ / ۱۷۴)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now