Transliteration: (Wa izaa maaa unzilat Sooratun faminhum mai yaqoolu aiyukum zaadat hu haazihee eemaanaa; fa ammal lazeena aamanoo fazaadat hum eemaananw wa hum yastabshiroon)
{وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ:اور جب کوئی سورت اترتی ہے۔} یعنی جب قرآنِ پاک کی کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو منافقین آپس میں مذاق اڑانے کے طور پرکہتے ہیں ’’ اس سورت نے تم میں کس کے ایمان یعنی تصدیق ا ور یقین میں اضافہ کیا ہے؟ ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: جو ایمان والے ہیں ان کی تصدیق، یقین اور اللہ تعالیٰ سے قربت میں اس نے اضافہ کیا اور جب قرآن میں سے ایک کے بعد کوئی دوسری چیز اترتی ہے تو مومنین خوشیاں مناتے ہیں کیونکہ اس طرح ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے آخرت میں ان کا ثواب اور زیادہ ہو جاتا ہے۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۴، ۲ / ۲۹۷)
اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کا مذاق اڑانا منافقین کا کام ہے لہٰذا جو قرآن کی ایک آیت کا بھی مذاق اڑائے وہ کافر ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ التوبة آیت 124 تفسیر