قرآن - 52:38 سورہ الطور ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

38
أَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٞ يَسۡتَمِعُونَ فِيهِۖ فَلۡيَأۡتِ مُسۡتَمِعُهُم بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٍ

Transliteration: (Am lahum sullamuny yastami'oona feehi falyaati mustami'uhum bisultaanim mubeen)

ترجمہ: کنزالایمان - اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِۚ-فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍﭤ(38) || یا ان کے پاس کوئی زینہ ہے جس میں چڑھ کر سن لیتے ہیں تو ان کا سننے والا کوئی روشن سند لائے۔ ترجمہ: کنزالعرفان یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس میں چڑھ کر وہ سن لیتے ہیں ۔ (اگر ایسا ہے) تو ان کے اس طرح سننے والے کو کوئی روشن دلیل لانی چاہیے۔ || یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس میں چڑھ کر وہ سن لیتے ہیں ۔ (اگر ایسا ہے) تو ان کے اس طرح سننے والے کو کوئی روشن دلیل لانی چاہیے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الطور آیت 38 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ: یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے۔} ارشاد فرمایا کہ یا ان مشرکین کے پاس کوئی سیڑھی ہے اور وہ آسمان کی طرف لگی ہوئی ہے جس پر چڑھ کر وہ فرشتوں  کی باتیں  سن لیتے ہیں  اور انہیں  معلوم ہوجاتا ہے کہ کون پہلے ہلاک ہوگا اور کس کی فتح ہوگی۔اگر انہیں  اس بات کا دعویٰ ہو تو ان کے اس طرح سننے والے کو کوئی روشن دلیل لانی چاہیے جیسا کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی صداقت پر دلیل پیش فرمائی ہے۔(جلالین، الطور، تحت الآیۃ: ۳۸، ص۴۳۶، مدارک، الطور، تحت الآیۃ: ۳۸، ص۱۱۷۶، تفسیر طبری، الطور، تحت الآیۃ: ۳۸، ۱۱ / ۴۹۶، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now