Transliteration: (Am lahum sullamuny yastami'oona feehi falyaati mustami'uhum bisultaanim mubeen)
{ اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ: یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے۔} ارشاد فرمایا کہ یا ان مشرکین کے پاس کوئی سیڑھی ہے اور وہ آسمان کی طرف لگی ہوئی ہے جس پر چڑھ کر وہ فرشتوں کی باتیں سن لیتے ہیں اور انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ کون پہلے ہلاک ہوگا اور کس کی فتح ہوگی۔اگر انہیں اس بات کا دعویٰ ہو تو ان کے اس طرح سننے والے کو کوئی روشن دلیل لانی چاہیے جیسا کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی صداقت پر دلیل پیش فرمائی ہے۔(جلالین، الطور، تحت الآیۃ: ۳۸، ص۴۳۶، مدارک، الطور، تحت الآیۃ: ۳۸، ص۱۱۷۶، تفسیر طبری، الطور، تحت الآیۃ: ۳۸، ۱۱ / ۴۹۶، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الطور آیت 38 تفسیر