قرآن - 52:41 سورہ الطور ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

41
أَمۡ عِندَهُمُ ٱلۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُونَ

ترجمہ: کنزالایمان - اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَﭤ(41) || یا اُن کے پاس غیب ہیں جس سے وہ حکم لگاتے ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان یا ان کے پاس غیب ہے کہ وہ (اس کے ذریعے فیصلہ) لکھتے ہیں ۔ || یا ان کے پاس غیب ہے کہ وہ (اس کے ذریعے فیصلہ) لکھتے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الطور آیت 41 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{ اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ: یا ان کے پاس غیب ہے۔} یعنی شریعت کے احکام پس ِپُشت ڈالنے والے مشرکین کے پاس کیاغیب کا علم ہے جس کی وجہ سے وہ یہ حکم لگاتے ہیں  کہ مرنے کے بعد نہیں  اٹھیں  گے اور اٹھے بھی تو انہیں  عذاب نہیں  دیا جائے گا ۔جب یہ بات بھی نہیں  ہے تو وہ کیوں  اسلام قبول نہیں  کرتے۔

            امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں  یہ اشارہ ہے کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس جو کچھ اَسرار ،اَحکام اور کثیر خبروں  کا علم ِغیب ہے وہ وحی کے ذریعے انہیں  حاصل ہوا ہے۔( تفسیر کبیر، الطور، تحت الآیۃ: ۴۱، ۱۰ / ۲۲۱، مدارک، الطور، تحت الآیۃ: ۴۱، ص۱۱۷۶، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now