Transliteration: (Wa laqad jaaa'akum Yoosufu min qablu bil baiyinaati famaa ziltum fee shakkim mimmaa jaaa'akum bihee hattaaa izaa halaka qultum lai yab asal laahu mim ba'dihee Rasoolaa; kazaalika yudillul laahu man huwa Musrifum murtaab)
{وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ: اور بیشک اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف روشن
نشانیاں لے کر آئے۔} اس آیت میں خطاب اگرچہ فرعون اور اس کی قوم سے ہے لیکن مراد ان کے
آباؤ اَجداد ہیں ( کیونکہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرعون اور اس کی قوم کے پاس رسول بن کر تشریف
نہیں لائے تھے بلکہ ان کے آباؤ اَجداد کے پاس آئے تھے،) چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے مصر والو! بیشک حضر ت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے تمہارے آباؤ اَجداد کے پاس حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام روشن نشانیاں لے کر آئے تو وہ ان کے لائے ہوئے حق دین سے شک ہی
میں رہے یہاں تک کہ جب انہوں نے انتقال فرمایا توتمہارے آباؤ اَجداد نے کہا: اب اللہ تعالیٰ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا۔ یہ بے دلیل بات تمہارے پہلے لوگوں نے خود
گڑھی تاکہ وہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃ وَالسَّلَام کے بعد آنے والے
انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کریں اور انہیں جھٹلائیں، تو وہ کفر پر قائم رہے، حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت میں شک کرتے رہے
اور بعد والوں کی نبوت کے انکار کے لئے انہوں نے یہ منصوبہ بنالیا کہ اب اللہ تعالیٰ کوئی رسول ہی نہ بھیجے گا ۔ یاد رکھو کہ جس طرح تمہارے آباؤ اَجداد
گمراہ ہوئے ،اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو
گمراہ کرتا ہے جو حد سے بڑھنے والا اور ان چیزوں میں شک کرنے والا ہو جن پر روشن
دلیلیں شاہد ہیں ۔(خازن ، حم المؤمن ، تحت الآیۃ
: ۳۴، ۴ / ۷۲ ، روح البیان، المؤمن، تحت الآیۃ: ۳۴، ۸ / ۱۸۱، جلالین، غافر، تحت الآیۃ: ۳۴، ص۳۹۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ غافر آیت 34 تفسیر