قرآن - 40:43 سورہ غافر ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

43
لَا جَرَمَ أَنَّمَا تَدۡعُونَنِيٓ إِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهُۥ دَعۡوَةٞ فِي ٱلدُّنۡيَا وَلَا فِي ٱلۡأٓخِرَةِ وَأَنَّ مَرَدَّنَآ إِلَى ٱللَّهِ وَأَنَّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ هُمۡ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِ

ترجمہ: کنزالایمان - وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِﭤ(41)تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ٘-وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ(42)لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ(43) || اور اے میری قوم مجھے کیا ہوا میں تمہیں بلاتا ہوں نجات کی طرف اور تم مجھے بلاتے ہو دوزخ کی طرف۔ مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ اللہ کا انکار کروں اور ایسے کو اس کا شریک کروں جو میرے علم میں نہیں اور میں تمہیں اس عزت والے بہت بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں ۔ آپ ہی ثابت ہوا کہ جس کی طرف مجھے بلاتے ہو اسے بلانا کہیں کام کا نہیں دنیا میں نہ آخرت میں اور یہ ہمارا پھرنا اللہ کی طرف ہے اور یہ کہ حد سے گزرنے والے ہی دوزخی ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور اے میری قوم مجھے کیا ہوا کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلارہے ہو۔ تم مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ میں اللہ کا انکار کروں اور ایسے کو اس کا شریک کروں جو میرے علم میں نہیں ، اور میں تمہیں عزت والے بہت بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں ۔ آپ ہی ثابت ہوا کہ جس کی طرف تم مجھے بلارہے ہو اس کو بلانا کہیں کام کا نہیں، دنیا میں، نہ آخرت میں اور یہ کہ ہمارا پھرنا اللہ کی طرف ہے اور یہ کہ حد سے گزرنے والے ہی دوزخی ہیں۔ || اور اے میری قوم مجھے کیا ہوا کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلارہے ہو۔ تم مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ میں اللہ کا انکار کروں اور ایسے کو اس کا شریک کروں جو میرے علم میں نہیں ، اور میں تمہیں عزت والے بہت بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں ۔ آپ ہی ثابت ہوا کہ جس کی طرف تم مجھے بلارہے ہو اس کو بلانا کہیں کام کا نہیں، دنیا میں، نہ آخرت میں اور یہ کہ ہمارا پھرنا اللہ کی طرف ہے اور یہ کہ حد سے گزرنے والے ہی دوزخی ہیں۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ غافر آیت 43 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ یٰقَوْمِ: اور اے میری قوم!} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنی قوم کو نصیحت کرتے وقت مردِ مومن نے یہ محسوس کیا کہ لوگ میری باتوں  پر تعجب کر رہے ہیں  اور میری بات ماننے کی بجائے مجھے اپنے باطل دین کی طرف بلانا چاہتے ہیں  تو اس نے اپنی قوم کومُخاطَب کرکے کہا: تم عجیب لوگ ہو کہ میں  تمہیں  ایمان اور طاعت کی تلقین کر کے جنت کی طرف بلاتا ہوں  اور تم مجھے کفر و شرک کی دعوت دے کر جہنم کی طرف بلا رہے ہو ۔تم مجھے اِس بات کی طرف بلاتے ہو کہ میں  اُس اللہ تعالیٰ کا انکار کر دوں  جس کا کوئی شریک نہیں  اور معبود ہونے میں  ایسے کو اس کا شریک کروں  جس کے معبود ہونے پر کوئی دلیل ہی نہیں  اور میں  تمہیں  اس اللہ کی طرف بلا رہا ہو ں  جو عزت والا ہے اور توبہ کرنے والے کو بہت بخشنے والا ہے،توخود ہی ثابت ہوا کہ تم مجھے جس کی عبادت کی طرف بلا رہے ہو اس کی عبادت کرنا دنیا اور آخرت میں  کہیں  کام نہ آ ئے گا کیونکہ وہ حقیقی معبود نہیں  اور یاد رکھو کہ ہمیں  مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہمیں  ہمارے اعمال کی جز ادے گا اور یہ بھی یاد رکھو کہ کافر ہی ہمیشہ کے لئے جہنم میں  جائیں  گے۔(روح البیان، المؤمن، تحت الآیۃ: ۴۱-۴۳، ۸ / ۱۸۶-۱۸۷، مدارک، غافر، تحت الآیۃ: ۴۱-۴۳، ص۱۰۶۰-۱۰۶۱، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now