{اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا: بیشک ضرور ہم اپنے رسولوں کی مدد
کریں گے۔} اس سے پہلی آیات میں جہنم کے اندر کافروں کے باہمی جھگڑے کا ذکر ہوا اور اب یہاں سے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان پر ایمان لانے والوں کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ دنیا اور آخرت
میں ان کی مدد کی جائے گی،چنانچہ ا س آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا
خلاصہ یہ ہے کہ بیشک ضرور ہم اپنے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اوران پر ایمان لانے والوں کو غلبہ عطا فرما کر ،مضبوط حجت دے کر اور ان کے دشمنوں سے انتقام لے کر دنیا کی زندگی میں ان کی مدد
کریں گے اور قیامت کے اس دن بھی ان کی مدد کریں گے جس دن فرشتے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تبلیغ اور کفار کی تکذیب کی گواہی دیں گے اور اگراس دن کافر اپنے کفر کے
متعلق کسی قسم کاعذرپیش کریں گے تووہ مانا نہیں جائے گااوراگرتوبہ
کریں گے تو وہ قبول نہیں ہوگی اوراس دن وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے دورہوں گے اورجہنم ان کا ٹھکانہ ہوگا۔( تفسیرکبیر، المؤمن، تحت الآیۃ: ۵۱-۵۲، ۹ / ۵۲۳-۵۲۴، خازن، حم المؤمن، تحت الآیۃ: ۵۱-۵۲، ۴ / ۷۴، بغوی، غافر، تحت الآیۃ: ۵۱-۵۲، ۴ / ۸۹، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ غافر آیت 52 تفسیر